مولانا سید کلب صادق نے کہا کہ مسلمانوں کو تمام آپسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد و اتفاق سے کام لینا چاہئے، انہوں نے کہا کہ ہماری غلطیوں سے اتنا اختلاف نہیں بڑھتا ہے جتنا غلط فہمیوں سے، اسلئے ہمیں آپسی روابط کو بڑھانا ہوگا، اور اس میں علماء کا اہم رول ہوا کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے رہنما اختلاف اور الزام تراشی سے دور رہیں اور منفی سوچ سے اجتناب کریں، اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سید کلب صادق نے کہا کہ دور غیبت امام زمانہ (عج) میں ہمارا پہلا ہدف اتحاد و اتفاق ہونا چاہئے، اور دوسرا ہدف حصول علم۔
اپنے خطاب کے دوران مولانا کلب صادق نے جمہوری اسلامی ایران کی حکومت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران میں کم عرصہ کے دوران یہ مثبت تبدیلی آئی کی وہاں اب ایک بھی مرد یا عورت جاہل اور بے علم نظر نہیں آتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایران کے عام نوجوان یہاں کے علماء سے آگاہ تر نظر آتے ہیں، انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک امریکہ سے ڈرتے ہیں اور امریکہ ایران سے خائف ہے، اس کی وجہ یہی علمی پیش رفت ہے، ایران نے اگر اوباما کو اپنے در کا بھکاری بنایا تو اسی سائیبر ٹیکنالوجی میں کامیابی کی وجہ سے، پروگرام کے بعد مولانا سید کلب صادق نے ادارہ ابو الفضل عباس (ع) ماگام کے کتب خانہ کا معائنہ کیا اور ان کے پیشرفت و کاوشوں کو سراہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲